منزلیں بھی اسکی تھیں، راستہ بھی اسکا تھا

by Waqar Arshad

یہ نظم ادھوری ہے. اور میری پسندیدہ نظموں میں سے ایک ہے. میں معافی چاہتا ہوں مجھے اس کے تخلیق کار کا نہیں پتا.  پھر بھی اس امید کے ساتھ شائع کر رہا ہوں، شائد آپ میں سے کوئی بتا سکے اس ادھوری نظم کو پورا کر سکےWalk away

منزلیں بھی اسکی تھیں، راستہ بھی اسکا تھا
اک میں اکیلا تھا قافلہ بھی اسکا تھا
ساتھ ساتھ چلنے کی سوچ بھی اسکی تھی
پھر راستہ بدلنے کا فیصلہ بھی اسکا تھا
آج میں اکیلا ہوں، دل سوال کرتا ہے
لوگ تو اسکے تھے، کیا خدا بھی اسکا تھا

Advertisements